کہانی درد کی لکھی نہیں جاتی
مجھے وہ درد لکھنا تھا
جو ضد کے ضد سے ٹکرانے سے
میرے جسم و جاں سے اٹھ رہا ہے
مِری آنکھوں سے بہتی سسکیاں
دھندلائے چہروں سے پھسل کر
دُودِ ابیض پر
ردائے احمریں رکھے رواں ہیں
قریہ قریہ، شہر در شہر
لہو بھیگے ہوئے کاغذ پہ
پھسلن ہے
کہانی درد کی لکھی نہیں جاتی
سنائی دے
تو اب نوحوں میں سن لینا
جو ضد کے ضد سے ٹکرانے سے
میرے جسم و جاں سے اٹھ رہا ہے
مِری آنکھوں سے بہتی سسکیاں
دھندلائے چہروں سے پھسل کر
دُودِ ابیض پر
ردائے احمریں رکھے رواں ہیں
قریہ قریہ، شہر در شہر
لہو بھیگے ہوئے کاغذ پہ
پھسلن ہے
کہانی درد کی لکھی نہیں جاتی
سنائی دے
تو اب نوحوں میں سن لینا
ظہیر پراچہ
No comments:
Post a Comment