صفحات

Tuesday, 11 October 2016

صبح آنکھ کھلتی ہے ایک دن نکلتا ہے

صبح آنکھ کھلتی ہے ایک دن نکلتا ہے
پھر یہ ایک دن برسوں ساتھ ساتھ چلتا ہے
کچھ نہ کچھ تو ہوتا ہے اک تِرے نہ ہونے سے
ورنہ ایسی باتوں پر کون ہاتھ ملتا ہے
دل چراغِ محفل ہے لیکن اسکے آنے سے
بار بار بجھتا ہے، بار بار جلتا ہے
کلفتیں جدائی کی عمر بھر نہیں جاتیں
جی بہل تو جاتا ہے پر کہاں بہلتا ہے
دل تپاں نہیں رہتا میں غزل نہیں کہتا
یہ شرار اپنی ہی آگ سے اچھلتا ہے
میں بساطِ دانش کا دور سے تماشائی
دیکھتا رہا شاطر کیسے چال چلتا ہے

حسن عابدی

No comments:

Post a Comment