صفحات

Tuesday, 11 October 2016

بستی سے تھوڑی دور چٹانوں کے درمیاں

خانہ بدوش

بستی سے تھوڑی دور چٹانوں کے درمیاں
ٹھہرا ہوا ہے خانہ بدوشوں کا کارواں
ان کی کہیں زمین نہ ان کا کہیں مکاں
پھرتے ہیں یونہی شام و سحر زیرِ آسماں
دھوپ اور ابر و باد کے مارے ہوئے غریب
یہ لوگ وہ ہیں جن کو غلامی نہیں نصیب
اس کارواں میں طفل بھی ہیں نوجواں بھی ہیں
بوڑھے بھی ہیں مریض بھی ہیں ناتواں بھی ہیں
میلے پھٹے لباس میں کچھ دیویاں بھی ہیں
سب زندگی سے تنگ بھی ہیں سرگراں بھی ہیں
بے زار زندگی سے ہیں پیر و جواں سبھی
الطافِ شہریار کے ہیں نوحہ خواں سبھی
ماتھے پہ سخت کوشئ پیہم کی داستاں
آنکھوں میں حُزن و یاس کی گھنگھور بدلیاں
چہروں پہ تازیانۂ افلاس کے نشاں
ہر ہر ادا سے بھوک کی بے تابیاں عیاں
پیسہ اگر ملے تو حمیّت بھی بیچ دیں
روٹی کا آسرا ہو تو عزت بھی بیچ دیں
اٹھے ہیں جس کی گود سے آزر وہ قوم ہے
توڑے ہیں جس نے چرخ سے اختر وہ قوم ہے
پلٹے ہیں جس نے دہر کے دفتر وہ قوم ہے
پیدا کیے ہیں جس نے پیمبر وہ قوم ہے
اب کیوں شریکِ حلقۂ نوعِ بشر نہیں
انساں ہی تو ہیں یہ کوئی جانور نہیں
آخر زمانہ ان کو ستائے گا کب تلک
کب سے جلا رہا ہے جلائے گا کب تلک
کب سے مٹا رہا ہے مٹائے گا کب تلک
ان کے لہو کو جوش نہ آئے گا کب تلک
مایوسیوں کی تہ میں جنوں خیزیاں بھی ہیں
افلاس کی سرشت میں خوں ریزیاں بھی ہیں

اسرار الحق مجاز
(مجاز لکھنوی)

No comments:

Post a Comment