صفحات

Wednesday, 2 November 2016

سامنے جب کوئی بھرپور جوانی آئے

سامنے جب کوئی بھرپور جوانی آئے
پھر طبیعت میں مِری کیوں نہ روانی آئے
کوئی دریا بھِی کبھی اسکی طرف رخ نہ کرے
کسی دریا کو اگر پیاس بجھانی آئے
میں نے حسرت سے نظر بھر کے اسے دیکھ لیا
جب سمجھ میں نہ محبت کے معنی آئے
اس کی خوشبو سے کبھی میرا بھی آنگن مہکے
میرے گھر میں بھی کبھی رات کی رانی آئے
زہر بھی ہو تو وہ تریاق سمجھ کر پی لے
کسی پیاسے کے اگر سامنے پانی آئے
عین ممکن ہے کوئی ٹوٹ کے چاہے مجھ کو
کبھی اک بار پلٹ کر تو جوانی آئے

ساقی امروہوی

No comments:

Post a Comment