کچھ پرندے ہیں نہیں پیڑ کے عادی وہ بھی
چھوڑ جائیں گے کسی روز یہ وادی وہ بھی
خواب میں کچھ در و دیوار بنا رکھے ہیں
جانے کیا سوچ کے تعمیر گِرا دی وہ بھی
میرے گھر میں نئی تصویر تھی اس چہرے کی
رنگ دیوار کا بدلا تو ہٹا دی وہ بھی
میں نے کچھ پھول بنائے تھے مِٹا ڈالے ہیں
ایک تتلی بھی بنای تھی اڑا دی وہ بھی
مجھ کو جادو نہیں آتا تھا پری سے سیکھا
بن گیا آپ بھی، پتھر کی بنا دی وہ بھی
میں نے اک راہ نِکالی تھی زمانے سے الگ
تُو نے آتے ہی زمانے سے مِلا دی وہ بھی
چھوڑ جائیں گے کسی روز یہ وادی وہ بھی
خواب میں کچھ در و دیوار بنا رکھے ہیں
جانے کیا سوچ کے تعمیر گِرا دی وہ بھی
میرے گھر میں نئی تصویر تھی اس چہرے کی
رنگ دیوار کا بدلا تو ہٹا دی وہ بھی
میں نے کچھ پھول بنائے تھے مِٹا ڈالے ہیں
ایک تتلی بھی بنای تھی اڑا دی وہ بھی
مجھ کو جادو نہیں آتا تھا پری سے سیکھا
بن گیا آپ بھی، پتھر کی بنا دی وہ بھی
میں نے اک راہ نِکالی تھی زمانے سے الگ
تُو نے آتے ہی زمانے سے مِلا دی وہ بھی
فیصل عجمی
واہ
ReplyDelete