صفحات

Wednesday, 2 November 2016

کتنی صدیاں بیت گئی ہیں گریہ بند نہیں ہوتا

عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ بر امام عالی مقام

کتنی صدیاں بِیت گئی ہیں گِریہ بند نہیں ہوتا
پانی بند تو ہو سکتا ہے، دریا بند نہیں ہوتا
اندھے زعم میں آندھی شاید یہ سچائ بھول گئی
چند مسافر کم ہونے سے رستا بند نہیں ہوتا
موت اور سائل دستک کی خفت سے بچ بھی سکتے ہیں
اک گھر ایسا ہے جس کا دروازہ بند نہیں ہوتا
جب تک پیروکار نبیﷺ کے آنا بند نہیں ہوتے
حق کی خاطر جاں دینے کا رستا بند نہیں ہوتا
کیا کیا ظلم نہیں ہوتے اب، لیکن میں بھی دیکھوں گا
ایک حسینؓ کے آ جانے سے کیا کیا بند نہیں ہوتا

منیر سیفی

No comments:

Post a Comment