مقابل آپ کی آنکھوں کے آہو ہو نہیں سکتا
انہیں کے آگے جادوگر سے جادو ہو نہیں سکتا
مِری آنکھوں سے کیا نِسبت کہ قطرہ آبِ نیساں کا
درِ نایاب ہو سکتا ہے،۔۔ آنسو ہو نہیں سکتا
بنا گو سجدہ گاہِ اہلِ ایماں، طاق کعبے کا
گداۓ کوچہ کیا درویشِ صحرا گرد کے آگے
کوئی کتا کبھی وحشت سے آہو ہو نہیں سکتا
کمال اے ماہِ کامل! تُو نے گو پیدا کیا، لیکن
ہلالِ عید ہو سکتا ہے، ابرو ہو نہیں سکتا
لہو سارے بدن کا کر دیا ہے خشک فرقت نے
مگر اے آہ! تجھ سے خشک آنسو ہو نہیں سکتا
کرے کیا استفادہ، اس کو استعداد لازم ہے
کہ برگِ شاخِ گلبن گل سے خوشبو ہو نہیں سکتا
نزاکت شاخِ گل میں ہے کہاں اس گل سے ہاتھوں کی
کوئی گلبرگ بھی تعویذِ بازو ہو نہیں سکتا
ہے اس آتش کے پرکالے سے فرقت ابکے جاڑے میں
سوائے داغِ حسرت گرم پہلو ہو نہیں سکتا
جو ہوا پہلو نشیں تو کر گیا پہلو تہی ہم سے
جدا پہلو سے دم بھر دردِ پہلو ہو نہیں سکتا
ہوا جو خودنما اس باغ میں جلدی فنا ہو گا
قیامِ رنگِ گل تا ہستئ بو ہو نہیں سکتا
امام بخش ناسخ
No comments:
Post a Comment