کون سی وہ زبان بولتا ہے
جیسے اک آسمان بولتا ہے
جسم میں کشتیاں سی تیرتی ہیں
روح میں بادبان بولتا ہے
مجھ کو لگتی ہے اپنی ہر آواز
دھوپ تو چپ کھڑی ہے آنگن میں
سائے سے سائبان بولتا ہے
وہم ایک باہری حوالہ ہے
اور اندر گمان بولتا ہے
چھوٹے چھوٹے سے گھر ہیں سہمے ہوئے
لیکن اونچا مکان بولتا ہے
کس سے چھپتا ہے خون کا لہجہ
میرے قاتل! نشان بولتا ہے
کوئی میرے سوا بھی ہے جو اسے
پیار سے، 'میری جان' بولتا ہے
زخم ہو، چوٹ ہو کہ بوسہ ہو
درد کا ہر نشان بولتا ہے
تم اگر چپ رہو تو کیا نقاشؔ
اب تو سارا جہان بولتا ہے
نقاش کاظمی
No comments:
Post a Comment