صفحات

Wednesday, 2 November 2016

کون سی وہ زبان بولتا ہے

کون سی وہ زبان بولتا ہے
جیسے اک آسمان بولتا ہے
جسم میں کشتیاں سی تیرتی ہیں
روح میں بادبان بولتا ہے
مجھ کو لگتی ہے اپنی ہر آواز
جیسے خالی مکان بولتا ہے
دھوپ تو چپ کھڑی ہے آنگن میں
سائے سے سائبان بولتا ہے
وہم ایک باہری حوالہ ہے
اور اندر گمان بولتا ہے
چھوٹے چھوٹے سے گھر ہیں سہمے ہوئے
لیکن اونچا مکان بولتا ہے
کس سے چھپتا ہے خون کا لہجہ
میرے قاتل! نشان بولتا ہے
کوئی میرے سوا بھی ہے جو اسے
پیار سے، 'میری جان' بولتا ہے
زخم ہو، چوٹ ہو کہ بوسہ ہو
درد کا ہر نشان بولتا ہے
تم اگر چپ رہو تو کیا نقاشؔ
اب تو سارا جہان بولتا ہے

نقاش کاظمی

No comments:

Post a Comment