صفحات

▼

Tuesday, 22 November 2016

واقف نہیں ہے کوئی حسینوں کی چال سے

 واقف نہیں ہے کوئی حسینوں کی چال سے

دل کا شکار کرتے ہیں زُلفوں کے جال سے

ناصح! خُدا کے واسطے ذکرِ صنم نہ کر

ہوتا ہے رنج اور کسی کے خیال سے

آئے گا باز تُو نہ عدُو سے مِلے بغیر

ظاہر یہ ہو رہا ہے تِری چال ڈھال سے

اس کے لیے جہان میں لُطفِ حیات کیا

مایوس ہو گیا ہو جو تیرے وِصال سے

اب راز ہم سے کِھنچنے کا معلوم ہو گیا

کرتے ہو خوش عدُو کو ہمارے ملال سے

اچھا یہ عشق، اچھی یہ دل بستگی ہوئی

آیا ہوں تنگ روز کے رنج و ملال سے

یوں تو بشر کے واسطے اکسیر ہے شراب

پینا ہے اس کا شرط مگر اعتدال سے

کیا کیا گُزر چکی ہے مِرے دل پہ ہِجر میں

واقف نہیں ہیں آپ ابھی میرے حال سے

ہاجر کے مُعتقد ہوں یہ ہم کو یقین ہے

جا کر مِلیں گر آپ بھی اس با کمال سے


ہاجر دہلوی

No comments:

Post a Comment