صفحات

Wednesday, 2 November 2016

ٹوٹنے پر کوئی آئے تو پھر ایسا ٹوٹے

ٹوٹنے پر کوئی آئے تو پھر ایسا ٹوٹے
کہ جسے دیکھ کے ہر دیکھنے والا ٹوٹے
تُو اسے کس کے بھروسے پہ نہیں کات رہی 
چرخ کو دیکھنے والی! تِرا چرخہ ٹوٹے 
اپنے بکھرے ہوئے ٹکڑوں کو سمیٹے کب تک 
ایک انسان کی خاطر کوئی کتنا ٹوٹے 
کوئی ٹکڑا تِری آنکھوں میں نہ چبھ جائے کہیں
دور ہو جا کہ مِرے خواب کا شیشہ ٹوٹے
میں کسی اور کو سوچوں تو مجھے ہوش آئے
میں کسی اور کو دیکھوں تو یہ نشہ ٹوٹے
رنج ہوتا ہے تو ایسا کہ بتائے نہ بنے
جب کسی اپنے کے باعث کوئی اپنا ٹوٹے
پاس بیٹھے ہوئے یاروں کو خبر تک نہ ہوئی
ہم کسی بات پہ اس درجہ انوکھا ٹوٹے
اتنی جلدی تو سنبھلنے کی توقع نہ کرو 
وقت ہی کتنا ہُوا ہے مِرا سپنا ٹوٹے
داد کی بھِیک نہ مانگ اے مِرے اچھے شاعر 
جا تجھے میری دعا ہے تِرا کاسا ٹوٹے
ورنہ کب تک لیے پھِرتا رہوں اس کو جوادؔ
کوئی صورت ہو کہ امید سے رشتہ ٹوٹے

جواد شیخ

No comments:

Post a Comment