صفحات

Saturday, 5 November 2016

ہو رہی ہے دربدر ایسی جبیں سائی کہ بس

ہو رہی ہے دربدر ایسی جبیں سائی کہ بس
کیا ابھی باقی ہے کوئی اور رسوائی کہ بس
آشنا راہیں بھی ہوتی جا رہی ہیں اجنبی
اس طرح جاتی رہی آنکھوں سے بینائی کہ بس
تا سحر کرتے رہے ہم،۔۔ انتظارِ مہرِ نو
دیکھتے ہی دیکھتے ایسی گھٹا چھائی کہ بس
ڈھونڈتے ہی رہ گئے ہم لعل و الماس و گہر
کور بد بینوں نے ایسی خاک چھنوائی کہ بس
کچھ شعور و حس کا تھا بحران ہم میں، ورنہ ہم
عہدِ نو کی اس طرح کرتے پذیرائی کہ بس
کیا نہیں کج عکس آئینوں کا دنیا میں علاج
جس کو دیکھو ہے عجب محو خود آرائی کہ بس
چاکری کرتے ہوۓ بھی ہم رہے آزاد رو
دست و پاۓ شوق میں ہے وہ توانائی کہ بس
آہ کیا کرتے کہ ہم عادی نہ تھے آرام کے
چوٹ اک اک گام پر البتہ وہ کھائی کہ بس
اس حسیں گیتی کے کھل کر رہ گئے سب جوڑ بند
چند پاگل ذروں کو آئی وہ انگڑائی کہ بس
کون شاعر تھا کہیں کا کون دانشور، مگر
دفتروں کی دوڑ وامق ایسی راس آئی کہ بس

وامق جونپوری

No comments:

Post a Comment