صفحات

Saturday, 5 November 2016

اجنبی خواہشیں سینے میں دبا بھی نہ سکوں

اجنبی خواہشیں سینے میں دبا بھی نہ سکوں
ایسے ضدی ہیں پرندے کہ اڑا بھی نہ سکوں
پھونک ڈالوں گا کسی روز میں دل کی دنیا
یہ تیرا خط تو نہیں ہے کہ جلا بھی نہ سکوں
مِری غیرت بھی کوئی شے ہے کہ محفل میں مجھے
اس نے اس طرح بلایا کہ جا بھی نہ سکوں
پھل تو سب میرے درختوں کے پکے ہیں لیکن
اتنی کمزور ہیں شاخیں کہ ہلا بھی نہ سکوں
ایک نہ اک روز کہیں ڈھونڈ ہی لوں گا تجھ کو
ٹھوکریں زہر نہیں ہیں کہ میں کھا بھی نہ سکوں

راحت اندوری

No comments:

Post a Comment