جب کہیں قافلہ ہائے جذب و جنوں چلتے ہیں
پھر ہواؤں کے پھریروں کے دِئیے جلتے ہیں
فطرت آغوشِ محبت میں انہیں پالتی ہے
معجزے وقت کی ٹکسال میں کب ڈھلتے ہیں
موسمِ گل کی جوانی میں بھی ویرانی ہے
کچھ قبیلے سفر و سمت کے قائل ہی نہیں
جس طرف کی بھی ہوائیں ہوں ادھر چلتے ہیں
تابش الوری
No comments:
Post a Comment