زعم نہ کیجو رو بزم سوز و ساز پر
رکھیو نظر بجائے ناز خاطر پیرِ ناز پر
زیب نہیں ہے شیخ یہ مۓ کشِ پاکباز پر
تہمتیں سو لگائے گا داغ جبیں نیاز پر
کہتا ہوں ہر حسیں سے میں نیتِ عشق ہے مِری
آئے گا میرا دل مگر شاہد دل نواز پر
فرق حیات و مرگ کا چمن کے دل سے پوچھ
دیتا ہے فوق دام کو چنگلِ شاہباز پر
خوابِ لحد ہے پُر سکوں عہدِ حیات پُر الم
موت نہ کیوں ہو طعنہ زن زندگئ دراز پر
سنگِ درِ حبیب پر ہوتا ہوں سجدہ ریز میں
خلقِ خدا ہے معترض مجھ پہ، مِری نماز پر
منعم بے بصر یوں ہی دیکھیے تا کجا رہے
محوِ نشاط و خوش دلی نغمۂ تار ساز پر
فخرِ عمل نہ چاہیۓ سعئ عمل ضرور ہے
آنکھ رہے لگی ہوئی رحمتِ کارساز پر
در پہ بتوں کے دی صدا سائلؔ بے نوا نے یہ
فضلِ خدا رہے مدام، حالِ گدا نواز پر
سائل دہلوی
No comments:
Post a Comment