سب ہی چپ ہیں کہ بات گہری ہے
اب کے پہلے سے رات گہری ہے
یہ جو افلاک پر ہے خاموشی
میرے مولا کی ذات گہری ہے
وہ جو پھُنکارتا ہے بن کر سانپ
مرگ سے کوئی بچ نہیں پاتا
مرگ کی سب سے گھات گہری ہے
ایسے لوگوں کا کیا کرے کوئی
جن کی ہر ایک بات گہری ہے
وقت سب سے بڑی حقیقت ہے
وقت کی واردات گہری ہے
خواجہؔ جی بھی خموش بیٹھے ہیں
لگتا ہے، کوئی بات گہری ہے
خواجہ اشرف
کے اشرف
No comments:
Post a Comment