صفحات

Friday, 2 December 2016

سب ہی چپ ہیں کہ بات گہری ہے

سب ہی چپ ہیں کہ بات گہری ہے
اب کے پہلے سے رات گہری ہے 
یہ جو افلاک پر ہے خاموشی 
میرے مولا کی ذات گہری ہے 
وہ جو پھُنکارتا ہے بن کر سانپ 
میرے دشمن کی مات گہری ہے 
مرگ سے کوئی بچ نہیں پاتا
مرگ کی سب سے گھات گہری ہے 
ایسے لوگوں کا کیا کرے کوئی 
جن کی ہر ایک بات گہری ہے 
وقت سب سے بڑی حقیقت ہے 
وقت کی واردات گہری ہے 
خواجہؔ جی بھی خموش بیٹھے ہیں 
لگتا ہے، کوئی بات گہری ہے 

خواجہ اشرف
کے اشرف

No comments:

Post a Comment