صفحات

Friday, 2 December 2016

مدت سے شناسا سے کوئی آواز نہ آئی

مدت سے شناسا سے کوئی آواز نہ آئی
یا اپنی ہی فطرت کو تگ و تاز نہ آئی
اس نے بھی کنارا نہ کیا نیش زنی سے
زخموں کی طلب بھی تو کبھی باز نہ آئی
ہر چند کہ وسعت نے کئی بار پکارا
طائر میں مگر جرأتِ پرواز نہ آئی
کچھ ہم سے بھی آیا نہ رفاقت کا سلیقہ
تہذیب تجھے بھی بتِ طناز نہ آئی
دعویٰ تو کیا سب نے مسیحا نفسی کا
قابو میں مگر ندرتِ اعجاز نہ آئی
تقدیر کی مے نے بھی کوئی کیف نہ بخشا
تحویل میں صہبائے خرد ساز نہ آئی

خیال امروہوی

No comments:

Post a Comment