مدت سے شناسا سے کوئی آواز نہ آئی
یا اپنی ہی فطرت کو تگ و تاز نہ آئی
اس نے بھی کنارا نہ کیا نیش زنی سے
زخموں کی طلب بھی تو کبھی باز نہ آئی
ہر چند کہ وسعت نے کئی بار پکارا
کچھ ہم سے بھی آیا نہ رفاقت کا سلیقہ
تہذیب تجھے بھی بتِ طناز نہ آئی
دعویٰ تو کیا سب نے مسیحا نفسی کا
قابو میں مگر ندرتِ اعجاز نہ آئی
تقدیر کی مے نے بھی کوئی کیف نہ بخشا
تحویل میں صہبائے خرد ساز نہ آئی
خیال امروہوی
No comments:
Post a Comment