صفحات

Thursday, 1 December 2016

جاگنا درد کا اور آنکھ کا نم ہو جانا

 جاگنا درد کا اور آنکھ کا نم ہو جانا 

اک کرم ہے دل و دیدہ کا بہم ہو جانا

سجدۂ شوق جہاں عمر کا حاصل ٹھہرے 

چشم کو چاہیۓ واں نقشِ قدم ہو جانا

منتظر ساحلِ جاں کب سے ہے سیرابی کا 

موجِ خوش آب! اِدھر بھی کوئی دَم ہو جانا

نور میں ڈوبتے جاتے ہیں دلوں کے در و بام 

پرتَوِ ماہ سے سینے کا حرم ہو جانا

دل کو داتا سے تعلق ہے تو ممکن ہی نہیں 

بخششِ خاص کا امید سے کم ہو جانا


ڈاکٹر توصیف تبسم

No comments:

Post a Comment