کھلتی ہوئی سحر کی ادا کون لے گیا
شہرِ خرد کی آب و ہوا کون لے گیا
بے کیف چل رہا ہے ارادوں کا کارواں
صحرا سے اب کے بانگِ درا کون لے گیا
شبنم سے بھی غبار برستا ہے دشت پر
ابلیس نے تو جسم نچوڑا تھا رات بھر
لیکن محافظوں کی حیا کون لے گیا
توڑے ہیں کس نے کچے گھروندوں کے آسرے
غربت زدہ دلہن کی ردا کون لے گیا
کشکول کس نے دے دیا قسمت کے ہاتھ میں
پگڑی میں تھا جو بالِ ہما، کون لے گیا
خیال امروہوی
No comments:
Post a Comment