صفحات

Thursday, 1 December 2016

دل محبت میں مبتلا ہو جائے

دل محبت میں مبتلا ہو جائے
جو ابھی تک نہ ہو سکا ہو جائے
تجھ میں یہ عیب ہے کہ خوبی ہے 
جو تجھے دیکھ لے، تیرا ہو جائے
بس وہ اتنا کہے، مجھے تم سے
اور پھر کال منقطع ہو جائے
خود کو ایسی جگہ چھپایا ہے 
کوئی ڈھونڈھے تو لا پتہ ہو جائے
میں تجھے چھوڑ کر چلا جاؤں 
سایا دیوار سے جدا ہو جائے
ایک دو بار عشق جائز ہے 
یہ اگر تیسری دفعہ ہو جائے
جس طرح جل رہا ہے صدیوں سے 
عین ممکن ہے دل دِیا ہو جائے
دل بھی کیسا درخت ہے حافیؔ 
جو تِری یاد سے ہرا ہو جائے

تہذیب حافی

No comments:

Post a Comment