مزدور لڑکی
وہ اک مزدور لڑکی ہے
بہت آساں ہے میرے لیے اس کو منا لینا
ذرا آراستہ ہو لوں
مِرا آئینہ کہتا ہے
کسی سب سے بڑے بت ساز کا شہکار ہوں گویا
میں شہروں کے تبسم پاش نظاروں کا پالا ہوں
میں پروردہ ہوں باروں قہوہ خانوں کی فضاؤں کا
میں جب شہروں کی رنگیں تتلیوں کو چھیڑ لیتا ہوں
میں جب آراستہ خلوت کدوں کی میز پر جا کر
شرابوں سے بھی خوش رنگ پھولوں کو اپنا ہی لیتا ہوں
تو پھر اک گاؤں کی پالی ہوئی معصوم سی لڑکی
مِرے بس میں نہ آئے گی
بھلا یہ کیسے ممکن ہے
اور
پھر ایسے میں جب میں چاہتا ہوں پیار کرتا ہوں
ذرا بیٹھو
میں دریا کے کنارے
دھان کے کھیتوں میں ہو آؤں
یہی موسم ہے
جب دھرتی سے ہم روٹی اگاتے ہیں
تمہیں تکلیف تو ہو گی
ہمارے جھونپڑوں میں چارپائی بھی نہیں ہوتی
نہیں میں رک گئی
تو دھان تک پانی نہ آئے گا
ہمارے گاؤں میں
برسات ہی تو ایک موسم ہے
کہ جب ہم سال بھر کے واسطے کچھ کام کرتے ہیں
ادھر بیٹھو
پرائی لڑکیوں کو اس طرح دیکھا نہیں کرتے
یہ لپ اسٹک
یہ پوڈر
اور یہ اسکارف
کیا ہو گا
مجھے کھیتوں میں مزدوری سے فرصت ہی نہیں ملتی
مِرے ہونٹوں پہ گھنٹوں بوند پانی کی نہیں پڑتی
مِرے چہرے مِرے بازو پہ لُو اور دھوپ رہتی ہے
گلے میں صرف پیتل کا یہ چندن ہار کافی ہے
ہوا میں دلکشی ہے
اور فضا سونا لٹاتی ہے
مجھے ان سے عقیدت ہے
یہی میری متاع میری نعمت ہے
بہت ممنون ہوں لیکن
حضور آپ اپنے تحفے
شہر کی پریوں میں لے جائیں
بہت آساں ہے میرے لیے اس کو منا لینا
ذرا آراستہ ہو لوں
مِرا آئینہ کہتا ہے
کسی سب سے بڑے بت ساز کا شہکار ہوں گویا
میں شہروں کے تبسم پاش نظاروں کا پالا ہوں
میں پروردہ ہوں باروں قہوہ خانوں کی فضاؤں کا
میں جب شہروں کی رنگیں تتلیوں کو چھیڑ لیتا ہوں
میں جب آراستہ خلوت کدوں کی میز پر جا کر
شرابوں سے بھی خوش رنگ پھولوں کو اپنا ہی لیتا ہوں
تو پھر اک گاؤں کی پالی ہوئی معصوم سی لڑکی
مِرے بس میں نہ آئے گی
بھلا یہ کیسے ممکن ہے
اور
پھر ایسے میں جب میں چاہتا ہوں پیار کرتا ہوں
ذرا بیٹھو
میں دریا کے کنارے
دھان کے کھیتوں میں ہو آؤں
یہی موسم ہے
جب دھرتی سے ہم روٹی اگاتے ہیں
تمہیں تکلیف تو ہو گی
ہمارے جھونپڑوں میں چارپائی بھی نہیں ہوتی
نہیں میں رک گئی
تو دھان تک پانی نہ آئے گا
ہمارے گاؤں میں
برسات ہی تو ایک موسم ہے
کہ جب ہم سال بھر کے واسطے کچھ کام کرتے ہیں
ادھر بیٹھو
پرائی لڑکیوں کو اس طرح دیکھا نہیں کرتے
یہ لپ اسٹک
یہ پوڈر
اور یہ اسکارف
کیا ہو گا
مجھے کھیتوں میں مزدوری سے فرصت ہی نہیں ملتی
مِرے ہونٹوں پہ گھنٹوں بوند پانی کی نہیں پڑتی
مِرے چہرے مِرے بازو پہ لُو اور دھوپ رہتی ہے
گلے میں صرف پیتل کا یہ چندن ہار کافی ہے
ہوا میں دلکشی ہے
اور فضا سونا لٹاتی ہے
مجھے ان سے عقیدت ہے
یہی میری متاع میری نعمت ہے
بہت ممنون ہوں لیکن
حضور آپ اپنے تحفے
شہر کی پریوں میں لے جائیں
سلام مچھلی شہری
No comments:
Post a Comment