صفحات

Thursday, 1 December 2016

سچ ہے دنیا والو کہ ہم ہیں اناڑی

فلمی گیت

سب کچھ سیکھا ہم نے نہ سیکھی ہوشیاری 
سچ ہے دنیا والو! کہ ہم ہیں اناڑی

دنیا نے کتنا سمجھایا کون ہے اپنا کون پرایا 
پھر بھی دل کی چوٹ چھپا کر ہم نے آپ کا دل بہلایا 
خود ہی مر مٹنے کی یہ ضد ہے ہماری 
سچ ہے دنیا والو! کہ ہم ہیں اناڑی

دل کا چمن اجڑتے دیکھا پیار کا رنگ اترتے دیکھا 
ہم نے ہر جینے والے کو دھن دولت پہ مرتے دیکھا 
دل پہ مرنے والے مریں گے بھکاری 
سچ ہے دنیا والو! کہ ہم ہیں اناڑی

اصلی نقلی چہرے دیکھے دل پہ سو سو پہرے دیکھے 
میرے دکھتے دل سے پوچھو کیا کیا خواب سنہرے دیکھے 
ٹوٹا جس تارے پہ نظر تھی ہماری 
سچ ہے دنیا والو! کہ ہم ہیں اناڑی

حسرت جے پوری

No comments:

Post a Comment