صفحات

Thursday, 1 December 2016

چلا ہوں آج یہ سوغات لے کر ان کی محفل میں

 چلا ہوں آج یہ سوغات لے کر ان کی محفل میں

جلن سینے میں، اشک آنکھوں میں، خونِ آرزو دل میں

کِھچا اور کِھچ کے خنجر رہ گیا پھر دستِ قاتل میں

دیا قسمت نے دھوکہ دل کی حسرت رہ گئی دل میں

نا نکلیں گے تو کیا ارماں نہ نکلیں گے مِرے دل کے

تو کیا گُھٹ گُھٹ کے مرجائیگی مِری آرزو دل میں

دلِ مرحوم کا ماتم کروں یا روؤں اس دن کو

تمہارے چاہنے کی جب پڑی تھی ابتدا دل میں

تِرے ملنے کی حسرت ہی نہیں اک جان کی دشمن

قیامت ڈھا رہی ہے جو تمنا ہے مِرے دل میں

خیالِ یار کے آتے ہی یہ بے تابیاں کیسی

جو آنا تھا اسے بن کر قرار آتا مِرے دل میں

جدا ہونے کی ٹھہرانی تو میں مرنے کی ٹھانوں گا

مجھے آباد کرنا ہے تو آ بیٹھو مِرے دل میں

بھلا بیدم اسے پھر جام جم کی کیا ضرورت ہے

جسے سیرِ دو عالم ہو رہی ہو کاسۂ دل میں


بیدم شاہ وارثی

No comments:

Post a Comment