صفحات

Friday, 2 December 2016

تمام راستہ پھولوں بھرا تمہارا تھا

تمام راستہ پھولوں بھرا تمہارا تھا
ہماری راہ میں بس نقشِ پا ہمارا تھا
اس ایک ساعتِ شب کا خمار یاد کریں 
بدن کے لمس کو جب ہم نے مل کے بانٹا تھا
وہ ایک لمحہ جسے تم نے چھُو کے چھوڑ دیا
اس ایک لمحے میں کیفِ وصال سارا تھا
پھر اس کے بعد نگاہوں نے کچھ نہیں دیکھا 
نہ جانے کون تھا جو سامنے سے گزرا تھا
اب اس کے نام پہ دل نے دھڑکنا چھوڑ دیا
وہ جس کو ہم نے کبھی بے حساب چاہا تھا
وہ جس کو دیکھا تھا ہجومِ یاراں میں
وہ ایک شخص بہت ان دنوں اکیلا تھا
تمام صوت و صدا چپ سے ہو گئے تھے زبیر
وہ جب سکوت کے پتھر پہ گِر کے ٹوتا تھا

زبیر رضوی

No comments:

Post a Comment