پیغمبروں کی راہ پر چل کر نہ دیکھنا
یا پھر چلو تو راہ کے پتھر نہ دیکھنا
پڑھتے چلو وہ اِسم، کہ شہرِ طلسم ہے
گر خیر چاہتے ہو، پلٹ کر نہ دیکھنا
پہلی نظر ہی میں اسے جی بھر کے دیکھ لو
یہ کیا کہ خواب دیکھنا سورج کے رات بھر
اور دن کی روشنی میں کبھی گھر نہ دیکھنا
جس وقت اپنی فتح کا پرچم کرو بلند
ہاری ہوئی سپاہ کو ہنس کر نہ دیکھنا
شبنم رومانی
No comments:
Post a Comment