صفحات

Sunday, 4 December 2016

پیغمبروں کی راہ پر چل کر نہ دیکھنا

پیغمبروں کی راہ پر چل کر نہ دیکھنا
یا پھر چلو تو راہ کے پتھر نہ دیکھنا
پڑھتے چلو وہ اِسم، کہ شہرِ طلسم ہے 
گر خیر چاہتے ہو، پلٹ کر نہ دیکھنا
پہلی نظر ہی میں اسے جی بھر کے دیکھ لو
تہذیبِ عاشقی ہے مکرر نہ دیکھنا
یہ کیا کہ خواب دیکھنا سورج کے رات بھر
اور دن کی روشنی میں کبھی گھر نہ دیکھنا
جس وقت اپنی فتح کا پرچم کرو بلند
ہاری ہوئی سپاہ کو ہنس کر نہ دیکھنا

شبنم رومانی

No comments:

Post a Comment