شبِ وصال سے آگے، تِرے خیال سے آگے
مِری حیات کا قصہ ہے ماہ و سال سے آگے
کہیں پہ سانس ہے ساکن، کہیں پہ درد ہے پیہم
ملے ہیں زخم جو ہم کو، ہیں اندمال سے آگے
یہ آبلے یہ رسوائی، یہ چشمِ تر یہ تنہائی
رہا تلاش میں جس کی، نگر نگر پھرا تنہا
وہ ہے بیان سے باہر، تو خد و خال سے آگے
وہ لفظ کس طرح لکھوں، جو میری فکر کو پہنچے
کسی بھی حرف سے پہلے کسی مثال سے آگے
کیا ہے بار،ہا میں نے، سفر تلاش میں اپنی
کسی جنوب سے پہلے، کسی شمال سے آگے
اسد لکھنوی
No comments:
Post a Comment