صفحات

Sunday, 8 January 2017

کہنہ صدیوں کی افسوں زدہ خامشی

سونا شہر 

کہنہ صدیوں کی افسوں زدہ خامشی
تنگ گلیوں کی پہنائی میں چھائی ہے
ایک ویرانیِ جاوداں و جلی 
ساتویں آسماں سے اتر آئی ہے
ایک کہرا ہے پھیلا ہوا دور تک 
پھول بن میں نہ پیلی ہری کھیتیاں
ایک مذبح کی دیوار کے اس طرف 
چیلیں منڈلا رہی ہیں یہاں سے وہاں
گھاٹ خالی ہے پانی سے اترا ہوا 
کوئی ملاح بیٹھا نہیں ناؤ میں
دھندلا دھندلا افق کھو گیا ہے کہیں 
دیواروں کے جھنڈوں کے پھیلاؤ
زنگ رودوکش سرنگوں ہو گئے 
جیسے ہاری ہوئی فوج کے سنتری
سونے آنگن میں الجھی ہوئی گھاس 
بام چھانے میں کیوں دیر اتنی کری
ایک قسمت کا مارا ہوا کارواں 
جانے کس دیس سے جانے کس شہر سے
ہا نپتا کانپتا آ گیا ہے یہاں 
خالی فردا کی خالی امیدیں لیے 
ٹھنڈے چولھوں میں ٹھٹھری ہوئی آگ ہے 
بے کراں درد چہروں پہ پر قوم ہے
کب ٹھکانا ملے کب جنازہ اٹھے 
کوئی بتلائے کیا، کس کو معلوم ہے
شہر آباد تھے گاؤں آباد تھے 
عالم رنگ و بو تھا یہیں دوستو
کار گاہوں میں تھا شور محشر بپا 
یہ بہت دن کی باتیں نہیں دوستو
کون آیا تھا یہ اور کیا کر گیا 
لے گیا کون دھرتی کی تابندگی
جنگلوں میں سے گزرے تو چیخے ہوا 
زندگی، زندگی، زندگی، زندگی
کون سی نہر کون سا باغ ہے 
کون سے پات ہیں کون سا پھول ہے
زندگانی کے دامن کے پھیلاؤ میں 
دشت کے خار ہیں دشت کی دھول ہیں
موٹروں گاڑیوں پیدلوں میں کوئی 
طاقت و عزم رفتار باقی ہے
کس کے ایماء ارشاد کے منتظر 
مدتوں سے کھڑے ہیں وہیں کے وہیں
راہگیروں کے اٹھے قدم تھم گئے 
سحر ناوقت نے بے خبر آ لیا 
جانے والے جہاں تھے وہیں جم گئے 
آگے جانے کا جب راستہ نہ ملا
چوک پر آ کے سیلِ زماں رک گیا 
چوک پر آ کے سب راستے کھو گئے
اک سپاہی چلیپا کی صورت کھڑا 
سرخ پگڑی ہے سر جمائے ہوئے
مومی شمعوں کی لوئیں لرزنے لگیں 
محفلوں کا اجالا گیا، سو گیا
آمد آمد ہے بلوان طوفان کی 
دیکھنا، دیکھنا، دیکھنا، دیکھنا
مہر سے چاند تارے الجھنے لگے 
آندھیوں سے غبارے الجھنے لگے
کیسے وحشت کے مارے الجھنے لگے 
ایک دشمن سے سارے الجھنے لگے
آرتی کے لیے منتظر ہے جہاں
گوشت اور خون کے سرد و جامد بتو
اپنی آنکھوں کی پھیلاؤ تو پتلیاں 
کچھ تو بولو زبانوں سے کچھ تو کہو

ابن انشا

No comments:

Post a Comment