صفحات

Sunday, 8 January 2017

جز غم کوئی انعام وفا ہو تو کہیں بھی

جز غم کوئی انعامِ وفا ہو تو کہیں بھی
کچھ اس کے سوا ہم کو ملا ہو تو کہیں بھی
جینا ہے فقط جلتی ہوئی ریت پہ چلنا
اس راہ میں سائے کا پتا ہو تو کہیں بھی
ہر لمحہ بکھرتے ہیں، لٹے جاتے ہیں لیکن
کچھ اپنی تباہی کا گِلہ ہو تو کہیں بھی
لوٹ آئے ہیں خوابوں کے پراسرار وطن سے
باقی کہیں گھر کوئی بچا ہو تو کہیں بھی
ویسے ہی شب و روز، وہی غم، وہی خوشیاں
ہنگامہ نیا کوئی اٹھا ہو تو کہیں بھی

بشر نواز

No comments:

Post a Comment