صفحات

Tuesday, 3 January 2017

مجنوں کی سچائی کتنی سارا تو افسانہ ہے

مجنوں کی سچائی کتنی سارا تو افسانہ ہے
شہرت جس کو راس آ جائے وہ کیسا دیوانہ ہے
میرے رقیب سندیسہ لائے اپنے قد کی بلندی پر
سرو قدوں، شمشاد قدوں میں ان کا آنا جانا ہے
اپنا سر وہ کیسے جھکائے اس ساگر کی چوکھٹ پر
گنگا جی کے تٹ پر یارو جس جوگی کا ٹھکانہ ہے
سب یہی سمجھے، ہم بھی کوئی لفظوں کے سوداگر ہیں
آنکھوں کے اس جنگل میں بھی کس نے ہمیں پہچانا ہے
میرے ساتھ مِرا سورج ہے، میرے ساتھ مِرا سایہ
تنہائی تو ان کی دیکھو، جن کے ساتھ زمانہ ہے
ہم سے پوچھو یہ کیا شے ہے ہم جلنے کو آئے ہیں
اس کو تبرک جان کے لے لو، یہ خاکِ پروانہ ہے

راہی معصوم رضا

No comments:

Post a Comment