مجنوں کی سچائی کتنی سارا تو افسانہ ہے
شہرت جس کو راس آ جائے وہ کیسا دیوانہ ہے
میرے رقیب سندیسہ لائے اپنے قد کی بلندی پر
سرو قدوں، شمشاد قدوں میں ان کا آنا جانا ہے
اپنا سر وہ کیسے جھکائے اس ساگر کی چوکھٹ پر
سب یہی سمجھے، ہم بھی کوئی لفظوں کے سوداگر ہیں
آنکھوں کے اس جنگل میں بھی کس نے ہمیں پہچانا ہے
میرے ساتھ مِرا سورج ہے، میرے ساتھ مِرا سایہ
تنہائی تو ان کی دیکھو، جن کے ساتھ زمانہ ہے
ہم سے پوچھو یہ کیا شے ہے ہم جلنے کو آئے ہیں
اس کو تبرک جان کے لے لو، یہ خاکِ پروانہ ہے
راہی معصوم رضا
No comments:
Post a Comment