صفحات

Friday, 13 January 2017

دکھ کی لہر نے چھیڑا ہو گا

دکھ کی لہر نے چھیڑا ہو گا
یاد نے کنکر پھینکا ہو گا
آج تو میرا دل کہتا ہے 
تُو اس وقت اکیلا ہو گا
میرے چومے ہوئے ہاتھوں سے 
اوروں کو خط لکھتا ہو گا
بھیگ چلیں اب رات کی پلکیں 
تُو اب تھک کے سویا ہو گا
ریل کی گہری سیٹی سن کر 
رات کا جنگل گونجا ہو گا
شہر کے خالی اسٹیشن پر 
کوئی مسافر اترا ہو گا 
آنگن میں پھر چڑیاں بولیں 
تُو اب سو کر اٹھا ہو گا 
یادوں کی جلتی شبنم سے 
پھول سا مکھڑا دھویا ہو گا
موتی جیسی شکل بنا کر 
آئینے کو تکتا ہو گا 
شام ہوئی اب تو بھی شاید 
اپنے گھر کو لوٹا ہو گا 
نیلی دھندلی خاموشی میں 
تاروں کی دھن سنتا ہو گا 
میرا ساتھی شام کا تارا 
تجھ سے آنکھ ملاتا ہو گا 
شام کے چلتے ہاتھ نے تجھ کو 
میرا سلام تو بھیجا ہو گا 
پیاسی کرلاتی کونجوں نے 
میرا دکھ تو سنایا ہو گا 
میں تو آج بہت رویا ہوں 
تو بھی شاید رویا ہو گا 
ناصؔر تیرا میت پرانا 
تجھ کو یاد تو آتا ہو گا 

ناصر کاظمی

No comments:

Post a Comment