صفحات

Monday, 16 January 2017

نشستہ مسند ساقی پہ اب ہیں آب فروش

نشستہ مسندِ ساقی پہ اب ہیں آب فروش
ہوئے ہیں شہر بدر، شہر کے شراب فروش
کوئی بھی دیکھنا چاہے نہ اپنے چہرے کو
سو جتنے آئینہ گر تھے ہوۓ نقاب فروش
کسی کے پاس نہ ظرفِ خرد نہ حرفِ جنوں
ہوئے ہیں عارف و سالک سبھی نصاب فروش
یہ کہہ کے اڑ گئے باغوں سے عندلیب تمام
جو باغباں تھے کبھی اب ہوئے گلاب فروش
نہ کشتیاں ہیں، نہ ملاح ہیں، نہ دریا ہے
تمام ریگِ رواں، اور سبھی سراب فروش
جو حرفِ دل کبھی خونِ جگر سے لکھتے تھے
وہ اہلِ درد بھی اب ہو گئے کتاب فروش
جو کور چشم، کہن سال و شعبدہ گر تھے
وہی تو لوگ ہیں اب سرمہ و خضاب فروش
نہیں فرازؔ تو لوگوں کو یاد آتا ہے
وہ نغمہ سنج وہ خوش گفتگو وہ خواب فروش

احمد فراز

No comments:

Post a Comment