صفحات

Friday, 13 January 2017

ابھی آنکھوں میں حیرت ہے بہت ہے

ابھی آنکھوں میں حیرت ہے، بہت ہے
تماشے کی ضرورت ہے، بہت ہے
یہ گھر کا صحن ہے صحرا نہیں ہے
یہاں جتنی بھی وحشت ہے، بہت ہے
کوئی دیکھے تو ہیں مصروف کتنے
کوئی پوچھے کہ فرصت ہے، بہت ہے
ہمارے پاس ہیں متروک سِکے
سو جس شۓ کی جو قیمت ہے، بہت ہے
تعاقب میں لگی ہیں کتنی صدیاں
یہ جو اک پل کی مہلت ہے، بہت ہے

واجد امیر

No comments:

Post a Comment