صفحات

Tuesday, 3 January 2017

جانے کیوں لوگ محبت کیا کرتے ہیں

فلمی گیت

جانے کیوں لوگ محبت کیا کرتے ہیں
دل کے بدلے دردِ دل لیا کرتے ہیں

تنہائی ملتی ہے محفل نہیں ملتی
راہِ محبت میں کبھی منزل نہیں ملتی
دل ٹوٹ جاتا ہے، ناکام ہوتا ہے
الفت میں لوگوں کا یہی انجام ہوتا ہے
کوئی کیا جانے ،کیوں یہ پروانے
یوں مچلتے ہیں غم میں جلتے ہیں
آہیں بھر بھر کے دیوانے جیا کرتے ہیں
جانے کیوں لوگ محبت کیا کرتے ہیں

ساون میں آنکھوں کو کتنا رلاتی ہے
فرقت میں جب دل کو کسی کی یاد آتی ہے
یہ زندگی یونہی، برباد ہوتی ہے
ہر وقت ہونٹوں پہ کوئی فریاد ہوتی ہے
نہ دواؤں کا نام چلتا ہے
نا دعاؤں سے کام چلتا ہے
زہر یہ پھر بھی سبھی کیوں پیا کرتے ہیں
جانے کیوں لوگ محبت کیا کرتے ہیں

محبوب سے ہر غم منسوب ہوتا ہے
دن رات الفت میں تماشا خوب ہوتا ہے
راتوں سے بھی لمبے، یہ پیار کے قصے
عاشق سناتے ہیں جفائے یار کے
بے مروت ہے، بے وفا ہے وہ
اس ستم گر کا، اپنے دلبر کا
نام لے لے کے دہائی دیا کرتے ہیں
جانے کیوں لوگ محبت کیا کرتے ہیں

آنند بخشی 

No comments:

Post a Comment