بے نیازانہ ہمیشہ کی طرح ملتا ہے
اہلِ دل سے بھی وہ دنیا کی طرح ملتا ہے
کوچۂ یار میں حیراں ہوں کہ کس کو دیکھوں
ہر کوئی نقشِ کفِ پا کی طرح ملتا ہے
ہم وہاں ہیں کہ جہاں چشم کشائی کا صلہ
ہر ستمگر کے محبت بھرے لہجے پہ نہ جا
کبھی صحرا بھی تو دریا کی طرح ملتا ہے
اب ہمیں خواہشِ درماں جو نہیں ہے فراؔز
جو بھی ملتا ہے مسیحا کی طرح ملتا ہے
احمد فراز
No comments:
Post a Comment