صفحات

Tuesday, 10 January 2017

بے نیازانہ ہمیشہ کی طرح ملتا ہے

بے نیازانہ ہمیشہ کی طرح ملتا ہے
اہلِ دل سے بھی وہ دنیا کی طرح ملتا ہے
کوچۂ یار میں حیراں ہوں کہ کس کو دیکھوں
ہر کوئی نقشِ کفِ پا کی طرح ملتا ہے
ہم وہاں ہیں کہ جہاں چشم کشائی کا صلہ
آنکھ کو زخمِ تماشا کی طرح ملتا ہے
ہر ستمگر کے محبت بھرے لہجے پہ نہ جا
کبھی صحرا بھی تو دریا کی طرح ملتا ہے
اب ہمیں خواہشِ درماں جو نہیں ہے فراؔز
جو بھی ملتا ہے مسیحا کی طرح ملتا ہے

احمد فراز

No comments:

Post a Comment