صفحات

Sunday, 8 January 2017

جا چکا ہے وہ اس کا سفر بھول جا

جا چکا ہے وہ اس کا سفر بھول جا 
خاک پلکوں سے دھو، رہگزر بھول جا
اجنبی بن کے دیکھ اس کی تصویر کو 
یاد رکھنے کے سارے ہنر بھول جا
پھر سے آباد کر دل کے پاتال کو
اس کا گاؤں، گلی، بام و در کو بھول جا
اوڑھ لے خود پہ دنیا کی سب رونقیں 
ضد نہ کر، اب اسے چشمِ تر بھول جا
یاد رکھ اس کی باتوں کے سب ذائقے
اس کے وعدوں کی لذت مگر بھول جا
پلکوں پلکوں بچھا پیاس کی تیرگی
آنکھ میں چاندنی کے بھنور بھول جا
اس کے آنے نہ آنے سے اب درگزر 
اپنے ہونے نہ ہونے کا ڈر بھول جا
خود سے وابستہ رسوائیوں کی طرح 
اس کی شہرت کی تازہ خبر بھول جا
اب تو یوں ہے کہ محسؔن ہر اک یار کو 
لمحہ بھر کے لیے یاد کر، بھول جا

محسن نقوی

No comments:

Post a Comment