صفحات

Sunday, 1 January 2017

شکوہ نا کر گلہ نہ کر

فلمی گیت

شکوہ نہ کر گِلہ نہ کر 
یہ دنیا ہے پیارے 
یہاں غم کہ مارے تڑپتے رہے
شکوہ نہ کر گِلہ نہ کر
شکوہ نہ کر گِلہ۔۔۔۔

خزاں اس گلستاں میں آتی رہی ہے 
ہوا سوکھے پتے اڑاتی رہی ہے 
یہاں پھول کھِل کے 
بہاروں سے مل کے، بچھڑتے رہے 
شکوہ نہ کر گِلہ۔۔۔۔

یہاں تیرے اشکوں کی قیمت نہیں ہے 
رحم کرنا دنیا کی عادت نہیں ہے 
کسی نے نہ دیکھا 
یہاں خوں کے آنسو، ڈھلکتے رہے 
شکوہ نہ کر گِلہ۔۔۔۔

یہاں کا ہے دستور خاموش رہنا 
جو گزری ہے دل پہ کسی سے نہ کہنا 
یہ دن کاٹ ہنس کے
یہاں لوگ بس کے، اجڑتے رہے 
شکوہ نہ کر گِلہ۔۔۔۔

یہ دنیا ہے پیارے 
یہاں غم کہ مارے تڑپتے رہے
شکوہ نہ کر گِلہ۔۔۔۔

مشیر کاظمی


No comments:

Post a Comment