انتباہ
مفروضے کی بِنا پر خود فیصلہ سنا کر
ماضی نے جو دیا تھا اس درس کو بھلا کر
اک فرد کے بہانے
تم قوم کو مٹانے کا عزم کر چکے ہو
آبادیوں کو یکسر مسمار کر رہے ہو
معصوم شہریوں کو دن رات قتل کر کے
اپنی صفائی کی پھر تشہیر کر رہے ہو
لاکھوں کروڑوں ڈالر
بارود کے دھوئیں میں تحلیل کرنے والو
انسانیت کی پیہم تذلیل کرنے والو
اس جرم کا تمہارے آخر حساب ہو گا
اک اک عمل کا تم سے وقت انتقام لے گا
محسن بھوپالی
No comments:
Post a Comment