صفحات

Wednesday, 11 January 2017

شام ہوئی ہے ڈگر ڈگر میں پھیلی شب کی سیاہی ہے

شام ہوئی ہے

شام ہوئی ہے ڈگر ڈگر میں پھیلی شب کی سیاہی ہے
پچھم اور کبھی کا ڈوبا، چار پہر کا راہی ہے
آج کا دن بھی آخربیتا جگ جگ کا جنجال لیے
اندھیارے نے ایک جھپٹ میں چاروں کوٹ سنبھال لیے 
رات نے خیمے ڈیرے ڈالے ہولے ہولے کہاں کہاں 
پورپ پچھم اتر دکھن، پھیلا کالا بھبھوت دھواں
سانجھ سمے کی چھایا بیری، اس کا ناش ناش ہو
دھندکا پھندا جگ جگ پھیلا اندھا نیل آکاش ہوا 
سہما سہما ریل کے کالے پل پر دیر سے بیٹھا ہوں
سوچ رہا ہوں سیر تو ہولی ٹھہروں یا گھر لوٹ چلوں 
شنٹ کے انجن دھواں اڑاتے آتے ہیں کبھی جاتے ہیں
رنگ برنگے سگنل ان کو کیا کیا ناچ نچاتے ہیں
جنگلے پر پل کو جھکا اور انگلیوں سے اسے تھپکایا
کوئی مسافر مزے مزے میں پیت کا گیت الاپ چالا
چھاؤنی کے ایک کمپ کا گھنٹہ ٹن ٹن آٹھ بجاتا ہے
شنٹ انجن دھواں اڑاتا آتا ہے کبھی جاتا ہے
ا ج کی رات اماوس ہے آج گگن پر چاند نہیں
تبھی تو سائے گھنے گھنے ہیں تبھی ستارے ماند نہیں
تبھی تو من میں پھیل چلا الجھا الجھا سوچ کا جال
کل کی یادیں آج کی فکریں آنے والے کل کا خیال
کال کی باتیں کھیتی کھیتی، بستی بستی، گلی گلی 
جنگ کے چرچے محفل محفل، گدھوں کی تقدیر بھلی
ایک پہر سے اوپر گزرا سورج کو است ہوئے
کھیت کے جھینگر سوندھی سوندھی خوشبو پا کر مست ہوئے 
تن تن تن تن، دب دب دب دب دب الجھی الجھی دبی دبی
ایک بجے کی نوبت شاید وقت سے پہلے بج اٹھی
طوفانی جے کاروں کا اک شور سرِ صحرا ا ٹھا
کان بجے یا دشت میں گونجی گھوڑوں کی ٹاپوں کی صدا
کوچ کرو دل دھڑکے بولے پچھم کو اٹھ جانا ہے
کمپ کنارے باجا باجے دور کا دیس بسانا ہے
ایک سجیلی بستی دائیں، ایک البیلا رستہ بائیں
دیرسے کالے پل پہ کھڑے ہیں اے دل آج کدھر کو جائیں 
لہک لہک کر قرنق چیخے دل کے تیس بلوان کرے 
کھن کھن کھن کھن کھنڈا باجے کیا کیا کتھا بیان کرے
اجلی خندق اپنے ہی جیالوں کے لہو میں نہائی ہے
جیت نے جھلسی ویرانی کی شوبھا اور بڑھائی ہے

ابن انشا

No comments:

Post a Comment