صفحات

Sunday, 1 January 2017

خدا کرے کہ محبت میں یہ مقام آئے

فلمی گیت

خدا کرے کہ محبت میں یہ مقام آئے
کسی کا نام لوں، لب پہ تمہارا نام آئے
خدا کرے کہ محبت میں یہ مقام آئے
خدا کرے کہ محبت ۔۔۔

کچھ اس طرح سے جئے زندگی بسر نہ ہوئی
تمہارے بعد کسی رات کی سحر نہ ہوئی 
سحر نظر سے ملے زلف لے کے شام آئے
کسی کا نام لوں، لب پہ تمہارا نام آئے
خدا کرے کہ محبت میں یہ مقام آئے
خدا کرے ۔۔۔

خود اپنے گھر میں وہ مہمان بن کے آئے ہیں
ستم تو دیکھئے انجان بن کے آئے ہیں
ہمارے دل کی تڑپ آج کچھ تو کام آئے
کسی کا نام لوں، لب پہ تمہارا نام آئے
خدا کرے کہ محبت میں یہ مقام آئے
خدا کرے ۔۔۔

وہی ہے ساز، وہی گیت ہے وہی منظر
ہر ایک چیز وہی ہے نہیں ہو تم وہ مگر
اسی طرح سے نگاہیں اٹھیں، سلام آئے
کسی کا نام لوں، لب پہ تمہارا نام آئے
خدا کرے کہ محبت میں یہ مقام آئے
خدا کرے ۔۔۔

خدا کرے کہ محبت میں یہ مقام آئے 
کسی کا نام لوں، لب پہ تمہارا نام آئے

تسلیم فاضلی

No comments:

Post a Comment