یہ میں جو دستکیں دیتا ہوں اپنے سر سے بھی
مجھے گزرنا ہے دیوار سے بھی در سے بھی
ہوا سے سوچ سمجھ کر معاملہ کرنا
اسے نکالا گیا ہے خود اپنے گھر سے بھی
سفر پہ کوئی توجہ نہیں رہی میری
بھٹکنے والے مجھے پوچھنے لگے ہیں کبیرؔ
میں راستے سے بھی خائف تھا راہبر سے بھی
کبیر اطہر
No comments:
Post a Comment