صفحات

Sunday, 1 January 2017

یہ میں جو دستکیں دیتا ہوں اپنے سر سے بھی

یہ میں جو دستکیں دیتا ہوں اپنے سر سے بھی
مجھے گزرنا ہے دیوار سے بھی در سے بھی
ہوا سے سوچ سمجھ کر معاملہ کرنا
اسے نکالا گیا ہے خود اپنے گھر سے بھی
سفر پہ کوئی توجہ نہیں رہی میری
کہ لڑ رہا ہوں میں خود سے بھی ہمسفر سے بھی
بھٹکنے والے مجھے پوچھنے لگے ہیں کبیرؔ
میں راستے سے بھی خائف تھا راہبر سے بھی

کبیر اطہر

No comments:

Post a Comment