صفحات

Monday, 16 January 2017

وہ زلف ہے پریشاں ہم سب ادھر چلے ہیں

وہ زلف ہے پریشاں، ہم سب ادھر چلے ہیں
تم بھی چلو کہ سارے آشفتہ سر چلے ہیں
تم بھی چلو غزالاں، کوئے غزال چشماں
درشن کا آج دن ہے سب خوش نظر چلے ہیں
رنگ اس گلی خزاں کے موسم میں کھیلنے کو
خونیں دِلاں گئے ہیں، خونیں جگر چلے ہیں
اب دیر مت لگا چل، اے یار! بس چلا چل
دیکھیں یہ خوش نشیناں آخر کدھر چلے ہیں
بس اب پہنچ چکے ہم یاراں سوئے بیاباں
ساتھ اپنے ہم کو لے کر دیوار و در چلے ہیں
دنیا تباہ کر کے ہوش آ گیا ہے دل کو
اب تو ہماری سن لو، اب ہم سُدھر چلے ہیں
ہے سلسلہ عجب کچھ اس خلوتی سے اپنا
سب اسکے گھر چلے ہیں ہم اپنے گھر چلے ہیں

جون ایلیا

No comments:

Post a Comment