رات تو پرائی ہے، اس کو صبح جانا ہے
اور دن ہے آوارہ،۔ کیا پتا ٹھکانہ ہے
سانس سانس جڑتی ہے دل کا تانا بانا ہے
ٹیم ٹام برسوں کا پل میں لوٹ جانا ہے
نیند کے درختوں پر خواب پھیکے لگتے ہیں
حسرتوں کے پودوں کو آس کی نمی دے کر
خواہشیں اگاتے ہیں، کیا عجب زمانہ ہے
لفظ کہہ نہیں سکتے داستان جذبوں کی
جانتا ہے دل ہی یہ، دل کا ہی فسانہ ہے
اسد لکھنوی
No comments:
Post a Comment