صفحات

Tuesday, 3 January 2017

دل بستگئ شوق کے سامان بندھے ہیں

دل بستگئ شوق کے سامان بندھے ہیں
گھر میں کہیں پنجرے کہیں گلدان بندھے ہیں
یہ اپنی محبت تو دکھاوے کے لیے ہے
ہم تم تو کہیں اور مِری جان بندھے ہیں
تم کاٹ نہ دینا اسے بے کار سمجھ کر
اس پیڑ کے نیچے کئی پیمان بندھے ہیں
یہ ہم جو کسی طور نہیں کھلتے کسی پر
تجھ ہاتھ کی خاطر بہت آسان بندھے ہیں
عالم تھے کئی اور بھی مٹی کے علاوہ
کیا اس میں کشش تھی کہ یہاں آن بندھے ہیں

عباس تابش

No comments:

Post a Comment