صفحات

Tuesday, 10 January 2017

مقدور نہیں اس کی تجلی کے بیاں کا

مقدور نہیں اس کی تجلی کے بیاں کا
جوں شمع سراپا ہو اگر صرف زباں کا
پردے کو تعین کے درِ دل سے اٹھا دے
کھلتا ہے ابھی پل میں طلسماتِ جہاں کا
ٹک دیکھ صنم خانۂ عشق آن کے اے شیخ
جوں شمعِ حرم رنگ جھمکتا ہے بتاں کا
اس گلشنِ ہستی‌ میں عجب دید ہے، لیکن
جب چشم کھلے گل کی تو موسم ہوں خزاں کا
دکھلائیے لے جا کے تجھے مصر کے بازار
لیکن نہیں‌ خواہاں کوئی واں جنسِ گراں کا
ق
ہستی سے عدم تک نفسِ چند کی ہے راہ
دنیا سے گزرنا سفر ایسا ہے کہاں کا
سودؔا جو کبھی گوش سے ہمت کے سنے تُو
مضمون یہی ہے جرسِ دل کی فغاں کا

مرزا رفیع سودا

No comments:

Post a Comment