پیش از ظہورِ عشق کسی کا نشاں نہ تھا
تھا حسن میزبان، کوئی میہماں نہ تھا
ہم کو بہار میں بھی سرِ گلستاں نہ تھا
یعنی خزاں سے پہلے ہی دل شادماں نہ تھا
ملتے ہی ان کے بھول گئیں کلفتیں تمام
کیا جانتے تھے جائے گا جی اک نگاہ میں
تھی دل کی احتیاط مگر بیمِ جاں نہ تھا
سچ ہے کہ پاسِ خاطرِ نازک عذاب ہے
تھا دل کو جب فراغ کہ وہ مہرباں نہ تھا
کچھ میری بے خودی سے تمہارا زیاں نہیں
تم جاننا کہ بزم میں اک خستہ جاں نہ تھا
رات ان کو بات بات پہ سو سو دیئے جواب
مجھ کو خود اپنی ذات سے ایسا گماں نہ تھا
رونا ہے یہ کہ آپ بھی ہنستے تھے ورنہ یاں
طعنِ رقیب دل پہ کچھ ایسا گراں نہ تھا
تھا کچھ نہ کچھ کہ پھانس سی اک دل میں چبھ گئی
مانا کہ اس کے ہاتھ میں تیر و سناں نہ تھا
بزمِ سخن میں جی نہ لگا اپنا زینہار
شب انجمن میں حاؔلی جادو بیاں نہ تھا
الطاف حسین حالی
No comments:
Post a Comment