صفحات

Wednesday, 11 January 2017

جیسے دل ہم نے کیا آنکھ میں لا کر پانی

جیسے دل ہم نے کیا آنکھ میں لا کر پانی
اس طرح آگ کو کرتے ہیں بجھا کر پانی
موج کے دوش پہ نکلے تو ہو پر یاد رہے
بہت اونچے سے پٹختا ہے اٹھا کر پانی
خاک در خاک پڑی کتنی ہی تہذیبوں پر
لے گیا کتنی روایات بہا کر پانی
غم غلط کرنے کا آسان ہے نسخہ صاحب
پیجئے آپ بھی پانی میں ملا کر پانی
ایڑیاں تھم گئیں پانی کی روانی نہ تھمی
کہاں اس دشت نے رکھا تھا چھپا کر پانی

واجد امیر

No comments:

Post a Comment