جیسے دل ہم نے کیا آنکھ میں لا کر پانی
اس طرح آگ کو کرتے ہیں بجھا کر پانی
موج کے دوش پہ نکلے تو ہو پر یاد رہے
بہت اونچے سے پٹختا ہے اٹھا کر پانی
خاک در خاک پڑی کتنی ہی تہذیبوں پر
غم غلط کرنے کا آسان ہے نسخہ صاحب
پیجئے آپ بھی پانی میں ملا کر پانی
ایڑیاں تھم گئیں پانی کی روانی نہ تھمی
کہاں اس دشت نے رکھا تھا چھپا کر پانی
واجد امیر
No comments:
Post a Comment