صفحات

Friday, 13 January 2017

ہنسی نہ دے سکا مگر مجھے ملال دے گیا

ہنسی نہ دے سکا مگر مجھے ملال دے گیا
وہ ایک شخص روح کو عجب زوال دے گیا
وفا کو پھر لغّات میں فریب ہی لکھا گیا
وہ چاہتوں کو دیکھئے عجب مثال دے گیا
پھر آئینے کے رو برو تمام عکس کھو گئے 
بے چہرگی کو بھی نئے وہ خد و خال دے گیا
تمام عمر ہم جواب ڈھونڈتے رہیں گے اب
کمال یہ کِیا ہمیں نیا سوال دے گیا
مقدروں سے کھیلتے رہیں گے روز و شب مرے
وہ وقت کی بساط پر نئی ہی چال دے گیا

نجمہ شاہین کھوسہ

No comments:

Post a Comment