صفحات

Monday, 9 January 2017

کسی سے ایسی رتوں میں جدا نہیں ہوتے

کسی سے ایسی رتوں میں جدا نہیں ہوتے
کہ برف پِگھلے تو پھر نقشِ پا نہیں ہوتے
قفس میں عدل کی کوئی بھی شِق نہیں ہوتی
ضمانتوں پہ پرندے رِہا نہیں ہوتے
میں ایک عمر سے چپ چاپ سوچتا ہوں اسے
اس ایک لفظ کے معنی ادا نہیں ہوتے
صنم تراشنے والے خدا بناتے ہیں 
صنم تراشنے والے خدا نہیں ہوتے
دکھائی دیتے ہیں ہم جا بہ جا نسیمؔ یہاں 
ہم ایسے لوگ مگر جا بہ جا نہیں ہوتے

نسیم عباسی

No comments:

Post a Comment