صفحات

Sunday, 1 January 2017

نڈر بھی ذات میں اپنی ہوں خود سے خائف بھی

نڈر بھی ذات میں اپنی ہوں خود سے خائف بھی
لہو میں میرے حِرا بھی ہے ارضِ طائف بھی
یہی نہیں کہ فرِشتہ نہ چھت پہ اترا کوئی
پہنچ سکے نہ فلک تک مِرے وظائف بھی
پکارتی ہے مجھے تیرے نام سے دنیا
بدل کے رکھ دیئے تُو نے مِرے کوائف بھی
بھرم عزیز تھا تیرا، سو تیری جانب سے
خرید لایا ہوں اپنے لیے تحائف بھی
کیا ہے ساتھ ہمارے جو زندگی نے منیرؔ
روا رکھے نہ کسی سے کوئی طوائف بھی

منیر سیفی

No comments:

Post a Comment