آپ جیسوں کے لیے اس میں رکھا کچھ بھی نہیں
لیکن ایسا تو نہ کہیے کہ "وفا" کچھ بھی نہیں
آپ کہیے تو نبھاتے چلے جائیں گے، مگر
اس تعلق میں اذیت کے سِوا کچھ بھی نہیں
میں کسی طرح بھی سمجھوتہ نہیں کر سکتا
کیسے جانا ہے، کہاں جانا ہے، کیوں جانا ہے
ہم کہ چلتے چلے جاتے ہیں، پتہ کچھ بھی نہیں
پھر کوئی تازہ سخن دل میں جگہ کرتا ہے
جب بھی لگتا ہے کہ لکھنے کو بچا کچھ بھی نہیں
اب میں کیا اپنی محبت کا بھرم بھی نہ رکھوں
مان لیتا ہوں کہ اس شخص میں تھا کچھ بھی نہیں
میں نے دنیا سے الگ رہ کے بھی دیکھا جوادؔ
ایسی منہ زور اداسی کی دوا کچھ بھی نہیں
جواد شیخ
No comments:
Post a Comment