کیوں کہ تم پاس سے ہم جائیں بھلا اور کہیں
جی تو لگتا ہی نہیں یاں کے سوا اور کہیں
نہ دیا میں نے جو ہمدم تِری باتوں کا جواب
مت برا مانیو اس وقت میں تھا اور کہیں
بیخودی کیا کہوں شب کو جو تِرے کوچے سے
جڑ کے اک تیر مِرے دل پہ وہ پُر فن بولا
اے لو، پھینکا تھا کہیں اور لگا اور کہیں
خاک ہونے پہ بھی اس کوچے میں جرأت ہے یہ خوف
یاں سے لے جائے اڑا کر نہ صبا اور کہیں
قلندر بخش جرأت
No comments:
Post a Comment