صفحات

Tuesday, 10 January 2017

کیوں کہ تم پاس سے ہم جائیں بھلا اور کہیں

کیوں کہ تم پاس سے ہم جائیں بھلا اور کہیں
جی تو لگتا ہی نہیں یاں کے سوا اور کہیں
نہ دیا میں نے جو ہمدم تِری باتوں کا جواب
مت برا مانیو اس وقت میں تھا اور کہیں
بیخودی کیا کہوں شب کو جو تِرے کوچے سے
اٹھ کے گھر اپنے چلا میں، تو گیا اور کہیں
جڑ کے اک تیر مِرے دل پہ وہ پُر فن بولا
اے لو، پھینکا تھا کہیں اور لگا اور کہیں
خاک ہونے پہ بھی اس کوچے میں جرأت ہے یہ خوف
یاں سے لے جائے اڑا کر نہ صبا اور کہیں

قلندر بخش جرأت

No comments:

Post a Comment